صرف تعلیمی معلومات — تشخیص نہیں۔ ہمیشہ مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

ملیریا ٹیسٹ (سمیئر یا ریپڈ ٹیسٹ)

دوسرے نام: ملیریا کا ٹیسٹ، ایم پی ٹیسٹ

خون میں ملیریا کے جراثیم تلاش کرتا ہے، یا تو خوردبین سے (بلڈ سمیئر، 'ایم پی ٹیسٹ') یا تیز اینٹیجن ٹیسٹ (RDT/ICT) سے۔ خوردبین سے قسم بھی پتا چلتی ہے، جیسے P. vivax یا P. falciparum۔

یہ کیوں کروایا جاتا ہے

بخار، خاص طور پر کپکپی، پسینے اور سر درد کے ساتھ، ملیریا والے علاقے میں یا وہاں سفر کے بعد۔ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں ملیریا عام ہے، خاص طور پر مون سون کے بعد۔

تیاری

کسی تیاری کی ضرورت نہیں۔ ٹیسٹ بخار کے دوران بہتر ہوتا ہے، مگر کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

بالغ افراد کی عمومی قدریں

نارململیریا کے جراثیم نظر نہیں آئے / RDT منفی

رینج ہر لیب اور طریقے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ اپنی رپورٹ پر لکھی رینج استعمال کریں۔

اگر مثبت / ری ایکٹو ہو

مثبت ٹیسٹ ملیریا کی تصدیق کرتا ہے اور اسی دن ڈاکٹر سے علاج ضروری ہے۔ فالسیپیرم ملیریا تیزی سے شدید ہو سکتا ہے۔ ذہنی الجھن، غنودگی، بار بار الٹی، گہرا پیشاب، آنکھوں کا پیلا ہونا یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً ہسپتال جائیں۔

مفید معلومات

ایک منفی ٹیسٹ ملیریا کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔ بخار جاری رہے تو سمیئر عموماً ہر 12–24 گھنٹے بعد، تین بار تک دہرایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ہر بخار کو ملیریا سمجھ کر علاج کے بجائے پہلے ٹیسٹ سے تصدیق کی سفارش کرتا ہے۔

عام سوالات

کیا ملیریا ہونے کے باوجود ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے؟

جی ہاں۔ ایک منفی ٹیسٹ ملیریا کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔ بخار جاری رہے تو سمیئر عموماً ہر 12–24 گھنٹے بعد، تین بار تک دہرایا جاتا ہے۔

ایم پی سمیئر اور ملیریا ICT میں کیا فرق ہے؟

سمیئر میں خوردبین سے جراثیم دیکھے جاتے ہیں اور قسم بھی پتا چلتی ہے؛ تیز ٹیسٹ (RDT/ICT) جراثیم کے اینٹیجن پکڑتا ہے اور جلد نتیجہ دیتا ہے۔

اگر ملیریا ٹیسٹ مثبت ہو تو کیا کریں؟

مثبت ٹیسٹ میں اسی دن ڈاکٹر سے علاج ضروری ہے۔ ذہنی الجھن، غنودگی، بار بار الٹی، گہرا پیشاب، آنکھوں کا پیلا ہونا یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً ہسپتال جائیں۔

ملیریا ٹیسٹ کا بہترین وقت کیا ہے؟

ٹیسٹ بخار کے دوران بہتر ہوتا ہے، مگر کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔