ایچ آئی وی ٹیسٹ
دوسرے نام: ایچ آئی وی ٹیسٹ، ایڈز کا ٹیسٹ
ایچ آئی وی انفیکشن کی جانچ کرتا ہے۔ زیادہ تر لیبز ایک مشترکہ ٹیسٹ استعمال کرتی ہیں جو ایچ آئی وی اینٹی باڈیز اور p24 اینٹیجن دونوں پکڑتا ہے (چوتھی نسل کا ٹیسٹ)، جو پرانے ٹیسٹوں سے پہلے انفیکشن پکڑ لیتا ہے۔
یہ کیوں کروایا جاتا ہے
بالغوں کی کم از کم ایک بار اسکریننگ، ہر حمل میں، آپریشن یا علاج سے پہلے، کسی ممکنہ ایکسپوژر کے بعد، اور لمبے بخار، وزن کم ہونے یا بار بار انفیکشن جیسی علامات میں۔
تیاری
کسی تیاری کی ضرورت نہیں۔ آپ کا نتیجہ رازداری میں رکھا جاتا ہے۔
بالغ افراد کی عمومی قدریں
| نارمل | نان ری ایکٹو (منفی) |
|---|
رینج ہر لیب اور طریقے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ اپنی رپورٹ پر لکھی رینج استعمال کریں۔
اگر مثبت / ری ایکٹو ہو
ری ایکٹو اسکریننگ ٹیسٹ حتمی تشخیص نہیں: اس کی مزید ٹیسٹوں سے تصدیق ضروری ہے۔ ایچ آئی وی کی تصدیق ہو تو مؤثر علاج سے لوگ لمبی، صحت مند زندگی گزارتے ہیں اور وائرس دوسروں کو منتقل نہیں ہوتا۔ پاکستان میں سرکاری ایچ آئی وی علاج مراکز پر علاج مفت دیا جاتا ہے۔
مفید معلومات
ایکسپوژر کے بہت جلد بعد کیا گیا ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے ('ونڈو پیریڈ'، چوتھی نسل کے ٹیسٹ میں تقریباً 6 ہفتے تک)، اس لیے دوبارہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی ممکنہ ایکسپوژر، جیسے سوئی چبھنے کے بعد، انفیکشن سے بچاؤ کی دوا (PEP) چند گھنٹوں میں شروع ہو تو سب سے بہتر کام کرتی ہے اور 72 گھنٹے کے بعد نہیں: فوراً ہسپتال جائیں۔
عام سوالات
کیا ری ایکٹو ایچ آئی وی ٹیسٹ کا مطلب ہے کہ مجھے ایچ آئی وی ہے؟
صرف اس سے نہیں۔ ری ایکٹو اسکریننگ ٹیسٹ کی مزید ٹیسٹوں سے تصدیق ضروری ہے۔
ایکسپوژر کے کتنے عرصے بعد ایچ آئی وی پکڑا جا سکتا ہے؟
بہت جلد کیا گیا ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے۔ چوتھی نسل کے ٹیسٹ میں ونڈو پیریڈ تقریباً 6 ہفتے تک ہے، اس لیے دوبارہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
سوئی چبھنے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
فوراً ہسپتال جائیں۔ انفیکشن سے بچاؤ کی دوا (PEP) چند گھنٹوں میں شروع ہو تو سب سے بہتر کام کرتی ہے اور 72 گھنٹے کے بعد نہیں۔
کیا پاکستان میں ایچ آئی وی کا علاج دستیاب ہے؟
جی ہاں۔ سرکاری ایچ آئی وی علاج مراکز پر علاج مفت دیا جاتا ہے، اور مؤثر علاج سے لوگ لمبی، صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔