فیریٹن (آئرن کا ذخیرہ)
دوسرے نام: آئرن کا ٹیسٹ، فیریٹن ٹیسٹ
ایک پروٹین جو آئرن ذخیرہ کرتی ہے۔ فیریٹن کی سطح بتاتی ہے کہ جسم میں آئرن کا کتنا ذخیرہ ہے۔
یہ کیوں کروایا جاتا ہے
آئرن کی کمی (خون کی کمی کی سب سے عام وجہ) کی تصدیق، اور تھکاوٹ یا بال گرنے کی جانچ کے لیے۔
تیاری
نہار منہ ضروری نہیں۔ ڈاکٹر اجازت دیں تو چند دن پہلے آئرن کی گولیاں بند کر دیں۔
بالغ افراد کی عمومی قدریں
| آئرن کی کمی کا قوی اشارہ | 30 ng/mL سے کم |
|---|---|
| عمومی (خواتین) | تقریباً 15–150 ng/mL |
| عمومی (مرد) | تقریباً 30–400 ng/mL |
رینج ہر لیب اور طریقے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ اپنی رپورٹ پر لکھی رینج استعمال کریں۔
اگر زیادہ ہو
انفیکشن، سوزش، جگر کی بیماری اور آئرن کی زیادتی میں فیریٹن بڑھ جاتا ہے۔ صرف زیادہ نتیجے کا مطلب آئرن کی زیادتی نہیں۔
اگر کم ہو
فیریٹن کم ہونے کا مطلب آئرن کا ذخیرہ کم ہے، چاہے ہیموگلوبن ابھی نارمل ہو۔
مفید معلومات
سوزش فیریٹن بڑھاتی ہے، اس لیے CRP زیادہ ہو تو 'نارمل' فیریٹن آئرن کی کمی چھپا سکتا ہے۔ لیبز مختلف ہیں، اپنی رپورٹ کی رینج دیکھیں۔
عام سوالات
کیا فیریٹن کا 20 ہونا کم ہے؟
ہو سکتا ہے۔ بہت سی لیبز خواتین کے لیے تقریباً 15–150 ng/mL کو عمومی بتاتی ہیں، اس لیے 20 نارمل لکھا جا سکتا ہے، مگر 30 ng/mL سے کم فیریٹن آئرن کے کم ذخیرے کا قوی اشارہ ہے۔ ہمیشہ اپنی رپورٹ پر لکھی رینج استعمال کریں۔
کیا آئرن کی کمی میں فیریٹن نارمل لگ سکتا ہے؟
جی ہاں۔ سوزش فیریٹن بڑھاتی ہے، اس لیے CRP زیادہ ہو تو 'نارمل' فیریٹن آئرن کی کمی چھپا سکتا ہے۔
کیا فیریٹن زیادہ ہونے کا مطلب آئرن کی زیادتی ہے؟
صرف اس سے نہیں۔ انفیکشن، سوزش، جگر کی بیماری اور آئرن کی زیادتی میں فیریٹن بڑھ جاتا ہے۔
کیا فیریٹن ٹیسٹ کے لیے نہار منہ ہونا ضروری ہے؟
نہار منہ ضروری نہیں۔ ڈاکٹر اجازت دیں تو چند دن پہلے آئرن کی گولیاں بند کر دیں۔