صرف تعلیمی معلومات — تشخیص نہیں۔ ہمیشہ مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

الیکٹرولائٹس (سوڈیم، پوٹاشیم)

دوسرے نام: الیکٹرولائٹس ٹیسٹ، نمکیات کا ٹیسٹ

خون میں سوڈیم، پوٹاشیم، کلورائیڈ اور بائی کاربونیٹ ناپتا ہے۔ یہ نمکیات جسم کے پانی، اعصاب، پٹھوں اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یہ کیوں کروایا جاتا ہے

الٹی، دست، پانی کی کمی، کمزوری یا ذہنی الجھن میں؛ گردے یا دل کی بیماری میں؛ اور پیشاب آور یا بلڈ پریشر کی کچھ دوائیں لیتے وقت۔

تیاری

نہار منہ ہونا ضروری نہیں۔

بالغ افراد کی عمومی قدریں

سوڈیم (Na)تقریباً 135–145 mmol/L
پوٹاشیم (K)تقریباً 3.5–5.1 mmol/L
کلورائیڈ (Cl)تقریباً 98–107 mmol/L
بائی کاربونیٹ (HCO₃)تقریباً 22–29 mmol/L

رینج ہر لیب اور طریقے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ اپنی رپورٹ پر لکھی رینج استعمال کریں۔

اگر زیادہ ہو

سوڈیم زیادہ ہونا عموماً پانی کی کمی ظاہر کرتا ہے۔ پوٹاشیم زیادہ ہونا گردوں کی بیماری یا کچھ دواؤں سے ہو سکتا ہے اور دل کی دھڑکن پر اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے بہت زیادہ قدر میں فوری علاج ضروری ہے۔

اگر کم ہو

سوڈیم کم ہونا الٹی، دست، دل یا جگر کی بیماری یا کچھ دواؤں سے ہو سکتا ہے، اور شدید صورت میں ذہنی الجھن ہو سکتی ہے۔ پوٹاشیم کم ہونا اکثر دست، الٹی یا پیشاب آور دواؤں سے ہوتا ہے اور کمزوری اور پٹھوں میں کھنچاؤ کا سبب بنتا ہے۔

مفید معلومات

اگر خون کا نمونہ خراب (ہیمولائزڈ) ہو یا دیر سے ٹیسٹ ہو تو پوٹاشیم غلط طور پر زیادہ آنا عام ہے، اس لیے غیر متوقع زیادہ پوٹاشیم اکثر علاج سے پہلے دوبارہ چیک کیا جاتا ہے۔ بچوں میں شدید دست ہوں تو او آر ایس دیں اور ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

عام سوالات

نارمل سوڈیم اور پوٹاشیم کتنا ہوتا ہے؟

عموماً سوڈیم تقریباً 135–145 mmol/L اور پوٹاشیم تقریباً 3.5–5.1 mmol/L۔ ہمیشہ اپنی رپورٹ پر لکھی رینج استعمال کریں۔

میں ٹھیک محسوس کرتا ہوں پھر بھی پوٹاشیم زیادہ کیوں ہے؟

اگر خون کا نمونہ خراب (ہیمولائزڈ) ہو یا دیر سے ٹیسٹ ہو تو پوٹاشیم غلط طور پر زیادہ آنا عام ہے، اس لیے اکثر علاج سے پہلے دوبارہ چیک کیا جاتا ہے۔

پوٹاشیم کم کیوں ہوتا ہے؟

پوٹاشیم کم ہونا اکثر دست، الٹی یا پیشاب آور دواؤں سے ہوتا ہے اور کمزوری اور پٹھوں میں کھنچاؤ کا سبب بنتا ہے۔

کیا پوٹاشیم زیادہ ہونا خطرناک ہے؟

یہ دل کی دھڑکن پر اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے بہت زیادہ قدر میں فوری علاج ضروری ہے۔